(Youtube)(سویانوالہ۔۔..‏روسی میزائل زمین سےبراہ راست سٹیلائٹ تباہ کرسکتاہے،امریکی اسپیس کمانڈ....‏حکومت پاکستان نےکورونا وائرس کا پھیلاؤروکنےکیلئےتیزی سےاقدامات کیے،آئی ایم ایف...‏کورونا سے بچاؤ کیلئے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرے، وزیر اعظم ۔۔۔۔‏اگر کسی بزنس کو کوئی مشکل پیش آرہی ہے تو ہمیں آگاہ کریں ، گورنر اسٹیٹ بینک.. ۔۔۔۔)

سیاست

  چوھدری شعیب حیات تارڑ


 ضلع حافظ اباد کے نامور سیاست دان ، جن نے اپنے سیاسی کیریر کا اغاز 1996 میں کیا اور جلد ہی مہدی بھٹی کے قافلے میں شامل ہو گہے۔ اور یونین کونسل رامکےچھٹہ کے ناظم منتخب ہوے اور چیرمین مارکیٹ کمیٹی بننے کے بعد لوگوں کے کاموں کے لیے دن رات ایک کر دیا قسمت کا ستارہ عروج پاتا گیا اور اس عظیم انسان کا نام علاقے میں گونجنے لگا لیکن ساتھ ہی اپنی پارٹی کے کچھ لوگوں اور مخالفین کو یہ کھٹکنے لگے کیونکہ یہ انسان اپنے اچھے اخلاق صاف نیت اور غریبوں کا درد رکھنے کی وجہ اپنے علاقے کا طاقتور سیاست دان بن کے ابھر رہا تھا اور مہدی بٹھی گروپ میں نا مٹنے والا نام پیدا کر لیا


پھر مشرف دور کا بلدیاتی الیکشن اتا ہے تو اس ہر دلعزیذ انسان کو پارٹی ٹکٹ جاری نہیں ہوتا حالانکہ یہ یونین کونسل سویانوالہ کے سب سے مضبوط امید وار تھے ان کے اپنے چند خاص لوگوں نے پارٹی سے بغاوت کا اعلان کیا تو ان نے پارٹی کو ٹوٹنے سے بچایا اور تمام لوگوں کو مہدی بٹھی کے ساھے تلے اکٹھا رکھا اور اپنی سیٹ کی قربانی دے دی
لیکن اپنے حلقے کے تمام ناظمین سے بڑھ کے عوام کی خدمت کی اور ملنسار اور خوش اخلاق شخصیت ہونے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر گے لیکن ساتھ ہی اپنی پارٹی کے کچھ لوگوں سے ان کی کامیابی ہضم نہیں ہوتی تھی لیکن ان کی پارٹی کے لیے خدمات ہر دور میں نا قابل بیان رہی ہیں اور مہدی بھٹی کے کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے رہے
2007 کا الیکشن اتا ہے اور ن لیگ کے عروج کا وقت ہوتا ہے اور کامیابی بھی یقںنی تھی تو مہدی بھٹی کے بہت قریبی لوگ پارٹی چھوڑ جاتے ہیں اور مہدی کا اس دور میں بھی کسی نے تحصیل حافظ اباد میں ساتھ نبھایا تو وہ شعیب حیات تارڑ ہے اپ نے نہ صرف سیاسی بلکہ مالی طور پر بھی پارٹی کو سہارا دیا
الیکشن 2013 اتا ہے اور مہدی بھٹی کمزور گروپ ہے اور ن لیگ اپنے عروج پر تھی ساتھ ہی شعیب حیات کو ن لیگ کے حمزہ شہباز کی طرف سے کسی کے ریفرنس سے بہت بڑی سیٹ کی افر ہوتی ہے لہکن اس انسان نے فصلی بٹیرا بننے کی بجاے اصولی سیاست کو ترجیع دی کیونکہ شعیب حیات ایک نام نہیں بلکے پہچان بن چکا تھا 2013 سے2018وہ وقت بھی اس چشم میں محفوظ ہے جب مہدی بھٹی شعیب حیات کا مرہون منت نظر ایا لیکن اسی دوران رامکے چٹھ میں پارٹی کا کیا کردار رہا اور کس طرح اندرونی سازشوں کا یہ الیکشن شکار رہا لیکن شعیب حیات نے پارٹی کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا

2018 کے الیکشن کی بات اتی ہے تو مہدی بھٹی کا بھای اقتدار کے لالچ میں مہدی بھٹی کو ہری جھنڈی دیکھا دیتا ہے اور مہدی بٹھی اپنے بیٹے کو ایم این اے اور مامون جعفر کو ایم پی اے کا اعلان کرتا ہے لہکن اب بھی بہت سارے تحفظات ہونے کے باوجود پارٹی کا بھرپور ساتھ دیا اور جیت پی ٹی ای کا مقدر بنی
ان تمام خدمات کا اعتراف مہدی بھٹی اپنے حلقہ احباب میں کرتا نظر اتا ہے لہکن ساتھ کسی بھی بڑی سیٹ کے لیے سامنے بھی نہیں لا رہا اب یہ کوی خوف ہے یا مصلحت خدا بہتر جانتا ہے
لیکن یہ اٹل حقیقت ہے مہدی حسن بھٹی کے بعد پارٹی کے لیے اگر کسی کی سب سے زیادہ جدوجہد اور خدمات ہیں تو وہ شعیب حیات تارڈ ہے
اور سکندر نواز بھٹی ایک اچھا اور ملنسار ادمی ضرور ہے لیکن تحصیل ناظم کے لیے بہترین امیدوار شعیب حیات تارڈ ہی ہے
یہ میری ذاتی راے ہے کسی کا متفق ہونا یا نا ہونا ضروری نہیں
Previous
Next Post »

ConversionConversion EmoticonEmoticon

Note: only a member of this blog may post a comment.